27 جون 2026 - 17:10
لبنان کے مختلف سیاسی و مذہبی حلقوں کا حکومت اور اسرائیلی رژیم کے معاہدے کی مخالفت کا اعلان

بیروت: لبنان کی حکومت اور اسرائیلی رژیم کے درمیان فریم ورک معاہدے پر دستخط کی خبر سامنے آنے کے بعد متعدد لبنانی سیاسی جماعتوں، مذہبی شخصیات اور تنظیموں نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معاہدے کی خبر شائع ہونے کے بعد لبنان کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل حنا غریب نے ایک بیان میں کہا کہ جس رژیم کو انہوں نے "نسل کشی اور نسلی امتیاز پر مبنی رژیم" قرار دیا، اس کے ساتھ کسی بھی قسم کا امن ممکن نہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس "شرمناک معاہدے" کے خلاف متحد ہوں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ اس سے قبل بھی اسرائیلی رژیم کے ساتھ سمندری سرحدوں کے تعین کے معاہدے کی مخالفت کر چکے ہیں۔

یحییٰ سکاف سپورٹ کمیٹی نے بھی اپنے بیان میں اس معاہدے کو "ذلت آمیز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں اسرائیلی رژیم کو رعایت دینا، جب لبنان کی سرزمین کا ایک حصہ اب بھی اس کے قبضے میں ہے، قومی مفادات کے خلاف ہے۔ کمیٹی نے اسرائیلی رژیم کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے لبنانی عوام سے اپیل کی کہ وہ داخلی اختلافات اور فتنہ انگیزی سے دور رہیں، قومی اتحاد کو برقرار رکھیں اور "فوج، عوام اور مزاحمت" کے اصول کی حمایت جاری رکھیں۔

صیدا کی مسجد الغفران کے امام و خطیب شیخ حسام العیلانی نے بھی کہا کہ مزاحمت کا اسلحہ لبنان کا داخلی معاملہ ہے اور اس کا تعلق ملک کی خودمختاری سے ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے معاہدے کی شقیں قبول کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاہدۂ اوسلو کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیلی رژیم اپنے وعدوں کی پابند نہیں ہوتی، اس لیے لبنان کی دفاعی اور بازدار قوت کو کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے پر دستخط نے لبنان کے اندر سیاسی اختلافات اور داخلی تقسیم میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha